نئی دہلی:14/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )ایک مسلمان پولیس کانسٹیبل گزشتہ پانچ سالوں سے معطل ہے۔اس کو مہاراشٹر اسٹیٹ ریزرو پولیس فورس کی داڑھی نہیں رکھنے کی پالیسی کے تحت تادیبی کارروائی کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا، کیونکہ اس نے داڑھی کو مونڈوانے سے انکار کر دیا تھا۔دراصل ظہیرالدین شمش الدین بیدادے 16/جنوری 2008کو اسٹیٹ ریزرو پولیس فورس میں کانسٹیبل کے طور پر بھرتی ہوئے تھے۔فروری 2012کو جب وہ جالنہ میں تعینات تھے، تو انہوں نے اپنے کمانڈر سے داڑھی رکھنے کی اجازت مانگی۔مئی 2012میں اس کو اجازت مل گئی، لیکن پانچ ماہ بعد ہی اس کی اجازت کو اس بنیاد پر مسترد کر دیاگیا کہ مہاراشٹر کی وزارت داخلہ نے داڑھی رکھنے کے سلسلے میں ترمیم شدہ گائڈلائن جاری کی ہے، اس کے تحت اس کو داڑھی مونڈوانے کے لیے کہا گیا۔اس کے خلاف بیدادے نے بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں اپیل دائر کی۔سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے کہا گیا کہ وہ عارضی طور پر مذہبی سرگرمیوں کے لیے داڑھی رکھ سکتا ہے۔کورٹ نے حکومت کی دلیل کو قبول کرلیا اور دسمبر 2012میں بیدادے کی درخواست مسترد کر دی۔اس کے بعد جنوری 2013میں اس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی۔اسی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے موقف سے اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے اس پر زور دیا کہ وہ چاہے تو عارضی طور پر مذہبی کاموں کے لیے اسے رکھ سکتا ہے۔کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس کو بیدادے سے ہمدردی ہے اور وہ دوبارہ جوائن کیوں نہیں کر لیتے، لیکن بیدادے نے سپریم کورٹ کے آفر کو ٹھکرا دیا۔